مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں نئی دہلی میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران بڑھتے تشدد کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ 10 اکتوبر 2026 کو ایک احتجاجی اجتماع کے دوران پولیس نے مظاہرین کو طاقت کے ذریعے منتشر کرنے کی کوشش کی۔
رپورٹ کے مطابق، جنتا پارٹی (CJP) نے بھارت کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے انتخابی بے ضابطگیوں اور ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے معاملے پر استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک گیر احتجاج کی اپیل کی ہے۔
نیویارک ٹائمز نے اپنے تجزیے میں لکھا ہے کہ ووٹنگ کے نظام اور ووٹر ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل کے الزامات پر جنریشن زی کے نوجوانوں کے احتجاج نے وزیراعظم نریندر مودی کے لیے ایک مختلف نوعیت کا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔ ماضی میں مودی مخالفین کو بدنام کرکے، انہیں دہشت گرد یا ملک دشمن قرار دے کر اور سرکاری اداروں سمیت قانونی و انتظامی دباؤ کے ذریعے ان کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
تاہم، حالیہ مظاہروں نے اس حکمت عملی کی حدود واضح کر دی ہیں۔ پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال اور ہزاروں افراد کی گرفتاری کے بعد نوجوانوں نے موبائل فون کے ذریعے پولیس تشدد کی ویڈیوز بنائیں اور انہیں سوشل میڈیا پر پھیلا دیا۔ مظاہرین نے انٹرنیٹ کی پابندیوں کو بھی عبور کیا اور ایسی تصاویر جاری کیں جن سے ایک جمہوری رہنما کی حیثیت سے مودی کے اس دعوے کو نقصان پہنچا کہ وہ ملک میں نظم و ضبط اور استحکام برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، رکاوٹیں کھڑی کرنے اور ہزاروں سکیورٹی اہلکار تعینات کرنے جیسے سخت اقدامات بھی نئی دہلی کے مختلف علاقوں میں احتجاج روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ تحریک کے رہنماؤں نے بھی اعلان کیا ہے کہ رہائی کے بعد وہ مزید احتجاجی سرگرمیوں کا اہتمام کریں گے۔
نیویارک ٹائمز کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ اس بحران کی بنیادی وجہ انتخابی عمل کی شفافیت پر بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات ہیں۔ گزشتہ سال ملک بھر میں ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے دوران 13 کروڑ سے زیادہ نام حذف کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا، جس کے بعد اس عمل میں بدنظمی اور لاکھوں شہریوں کو جان بوجھ کر حق رائے دہی سے محروم کرنے کے الزامات سامنے آئے۔
مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جن کی تقرری کے طریقہ کار پر ناقدین کو اعتراض ہے اور ان کے بقول اس میں مودی کا اثر و رسوخ ہے۔ مظاہرین الزام لگاتے ہیں کہ حکمراں جماعت کے مستقبل کے انتخابی امکانات بہتر بنانے کے لیے ووٹر ریکارڈ میں ردوبدل کیا گیا ہے۔ دوسری جانب، حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ اس کے مخالفین انتخابی مقابلوں میں اپنی شکست کا ازالہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، مبصرین کا خیال ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کا استعفیٰ مودی کے لیے سیاسی نقصان کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ اسے انتخابی مینڈیٹ کی قانونی حیثیت پر شکوک و شبہات کے بالواسطہ اعتراف کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف، استعفے سے انکار کے نتیجے میں مظاہروں کے جاری رہنے اور کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
آپ کا تبصرہ